نہ جانے کب وہ پلٹ آئیں در کھلا رکھنا

افتخار نسیم

نہ جانے کب وہ پلٹ آئیں در کھلا رکھنا

افتخار نسیم

MORE BY افتخار نسیم

    نہ جانے کب وہ پلٹ آئیں در کھلا رکھنا

    گئے ہوئے کے لیے دل میں کچھ جگہ رکھنا

    ہزار تلخ ہوں یادیں مگر وہ جب بھی ملے

    زباں پہ اچھے دنوں کا ہی ذائقہ رکھنا

    نہ ہو کہ قرب ہی پھر مرگ ربط بن جائے

    وہ اب ملے تو ذرا اس سے فاصلہ رکھنا

    اتار پھینک دے خوش فہمیوں کے سارے غلاف

    جو شخص بھول گیا اس کو یاد کیا رکھنا

    ابھی نہ علم ہو اس کو لہو کی لذت کا

    یہ راز اس سے بہت دیر تک چھپا رکھنا

    کبھی نہ لانا مسائل گھروں کے دفتر میں

    یہ دونوں پہلو ہمیشہ جدا جدا رکھنا

    اڑا دیا ہے جسے چوم کر ہوا میں نسیمؔ

    اسے ہمیشہ حفاظت میں اے خدا رکھنا

    مآخذ:

    • کتاب : mukhtalif (Pg. 201)
    • Author : iftikhar nasim
    • مطبع : sang-e-miil publication lahore (2000)
    • اشاعت : 2000

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY