نہ جانے کل ہوں کہاں ساتھ اب ہوا کے ہیں

راجیندر منچندا بانی

نہ جانے کل ہوں کہاں ساتھ اب ہوا کے ہیں

راجیندر منچندا بانی

MORE BYراجیندر منچندا بانی

    نہ جانے کل ہوں کہاں ساتھ اب ہوا کے ہیں

    کہ ہم پرندے مقامات گم شدہ کے ہیں

    ستم یہ دیکھ کہ خود معتبر نہیں وہ نگاہ

    کہ جس نگاہ میں ہم مستحق سزا کے ہیں

    قدم قدم پہ کہے ہے یہ جی کہ لوٹ چلو

    تمام مرحلے دشوار انتہا کے ہیں

    فصیل شب سے عجب جھانکتے ہوئے چہرے

    کرن کرن کے ہیں پیاسے ہوا ہوا کے ہیں

    کہیں سے آئی ہے بانیؔ کوئی خبر شاید

    یہ تیرتے ہوئے سایے کسی صدا کے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-bani (Pg. 161)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے