Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نہ جانے کیا مری وحشت نے خواب دیکھا ہے

عبد الرؤف عروج

نہ جانے کیا مری وحشت نے خواب دیکھا ہے

عبد الرؤف عروج

MORE BYعبد الرؤف عروج

    نہ جانے کیا مری وحشت نے خواب دیکھا ہے

    تمام شہر پہ راتوں کا سخت پہرا ہے

    خود آج اپنی لکیروں میں ڈھونڈھتا ہے پناہ

    وہ ایک ہاتھ جو تقدیر کو بدلتا ہے

    معیشتوں کے جہنم میں جل رہے ہیں بدن

    جہاں میں روح کی آسودگی کا چرچا ہے

    کسی کو صرف شگوفے کسی کو صرف شرر

    نہ جانے اب کے بہاروں کا فیض کیسا ہے

    نہیں ہے ہم میں سلیماں کوئی مگر ہم سے

    زمانہ قاف کی پریوں کی بات کرتا ہے

    کچھ اب کے اور بھی زخموں کی آگ تیز ہوئی

    عروجؔ ان کے تبسم میں زہر کیسا ہے

    مأخذ:

    چراغ آفریدم (Pg. 180)

    • مصنف: عبد الرؤف عروج
      • ناشر: نفیس اکیڈمی، کراچی
      • سن اشاعت: 1998

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے