نہ کہو اعتبار ہے کس کا

شیخ علی بخش بیمار

نہ کہو اعتبار ہے کس کا

شیخ علی بخش بیمار

MORE BYشیخ علی بخش بیمار

    نہ کہو اعتبار ہے کس کا

    بے وفائی شعار ہے کس کا

    اے اجل شام ہجر آ پہنچی

    اب تجھے انتظار ہے کس کا

    عشق سے میں خبر نہیں یا رب

    داغ دل یادگار ہے کس کا

    دل جو ظالم نہیں تری جاگیر

    تو یہ اجڑا دیار ہے کس کا

    محتسب پوچھ مے پرستوں سے

    نام آمرزگار ہے کس کا

    بزم میں وہ نہیں اٹھاتے آنکھ

    دیکھنا ناگوار ہے کس کا

    پہنے پھرتا ہے ماتمی پوشاک

    آسماں سوگوار ہے کس کا

    چین سے سو رہو گلے لگ کر

    شوق بے اختیار ہے کس کا

    آپ سا سب کو وہ سمجھتے ہیں

    معتبر انکسار ہے کس کا

    یار کے بس میں ہے امید وصال

    یار پر اختیار ہے کس کا

    آپ بیمارؔ ہم ہوئے رسوا

    سرنگوں رازدار ہے کس کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY