نہ کسی سے کرم کی امید رکھیں نہ کسی کے ستم کا خیال کریں

سحر انصاری

نہ کسی سے کرم کی امید رکھیں نہ کسی کے ستم کا خیال کریں

سحر انصاری

MORE BYسحر انصاری

    نہ کسی سے کرم کی امید رکھیں نہ کسی کے ستم کا خیال کریں

    ہمیں کون سے رنج ملے ہیں نئے کہ جو دل کے زیاں کا ملال کریں

    ابھی صرف خیال ہے خواب نما ابھی صرف نظر ہے سراب نما

    ذرا اور خراب ہو وضع جنوں تو وہ زحمت پرسش حال کریں

    وہی شہر ہے شہر کے لوگ وہی غم خندہ و سنگ و صلیب وہی

    یہاں آئے ہیں کون سے ایسے سخی کہ جو لطف سخن کا سوال کریں

    سنے کون یہ طعنۂ چارہ گری سہے کون یہ داغ کمال رفو

    چلو درد وجود جگائیں سحر چلو زخم حیات بحال کریں

    مآخذ :
    • کتاب : namuud (Pg. 95)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY