نہ مندر میں صنم ہوتے نہ مسجد میں خدا ہوتا

نوشاد علی

نہ مندر میں صنم ہوتے نہ مسجد میں خدا ہوتا

نوشاد علی

MORE BYنوشاد علی

    نہ مندر میں صنم ہوتے نہ مسجد میں خدا ہوتا

    ہمیں سے یہ تماشہ ہے نہ ہم ہوتے تو کیا ہوتا

    نہ ایسی منزلیں ہوتیں نہ ایسا راستہ ہوتا

    سنبھل کر ہم ذرا چلتے تو عالم زیر پا ہوتا

    گھٹا چھاتی بہار آتی تمہارا تذکرہ ہوتا

    پھر اس کے بعد گل کھلتے کہ زخم دل ہرا ہوتا

    زمانے کو تو بس مشق ستم سے لطف لینا ہے

    نشانے پر نہ ہم ہوتے تو کوئی دوسرا ہوتا

    ترے شان کرم کی لاج رکھ لی غم کے ماروں نے

    نہ ہوتا غم تو اس دنیا میں ہر بندہ خدا ہوتا

    مصیبت بن گئے ہیں اب تو یہ سانسوں کے دو تنکے

    جلا تھا جب تو پورا آشیانہ جل گیا ہوتا

    ہمیں تو ڈوبنا ہی تھا یہ حسرت رہ گئی دل میں

    کنارے آپ ہوتے اور سفینہ ڈوبتا ہوتا

    ارے او جیتے جی درد جدائی دینے والے سن

    تجھے ہم صبر کر لیتے اگر مر کے جدا ہوتا

    بلا کر تم نے محفل میں ہمیں غیروں سے اٹھوایا

    ہمیں خود اٹھ گئے ہوتے اشارہ کر دیا ہوتا

    ترے احباب تجھ سے مل کے پھر مایوس لوٹ آئے

    تجھے نوشادؔ کیسی چپ لگی کچھ تو کہا ہوتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY