نہ نظر سے کوئی گزر سکا نہ ہی دل سے ملبہ ہٹا سکا

اجمل صدیقی

نہ نظر سے کوئی گزر سکا نہ ہی دل سے ملبہ ہٹا سکا

اجمل صدیقی

MORE BYاجمل صدیقی

    نہ نظر سے کوئی گزر سکا نہ ہی دل سے ملبہ ہٹا سکا

    نہ وہ در بچا نہ وہ گھر بچا تیرے بعد کوئی نہ آ سکا

    نہ وہ حس کسی میں نہ تاب ہے مرا غم تو خیر اٹھائے کون

    وہ جو مصرعہ غم کا تھا ترجماں کوئی اس کو بھی نہ اٹھا سکا

    کبھی خوف تھا ترے ہجر کا کبھی آرزو کے زوال کا

    رہا ہجر و وصل کے درمیاں تجھے کھو سکا نہ میں پا سکا

    مرے دل میں تخم یقین رکھ دے لچک تو شاخ مزاج کو

    وہ چمن کھلا مرے باغباں جو چمن کوئی نہ کھلا سکا

    مرے ساتھ سوئے جنون چل مرے زخم کھا مرا رقص کر

    مرے شعر پڑھ کے ملے گا کیا پتا پڑھ کے گھر کوئی پا سکا؟

    جو لکھو عبارت عشق تم تو انا کا کوئی نہ پیچ ہو

    جو لب دوات پہ جھک گیا وہ قلم ہی نقش بنا سکا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY