نہ نیند ہے نہ خواب ہے نہ یاد ہے نہ رات ہے

خلیل مامون

نہ نیند ہے نہ خواب ہے نہ یاد ہے نہ رات ہے

خلیل مامون

MORE BYخلیل مامون

    نہ نیند ہے نہ خواب ہے نہ یاد ہے نہ رات ہے

    زمیں نہ آسمان ہے زماں نہ کائنات ہے

    یہ جسم و جاں کا قافلہ ہے راستہ پہ کون سے

    نہ منزلوں کی آس ہے نہ رہروؤں کا ساتھ ہے

    امید و آرزو کے رنگ کیوں پھیکے لگ رہے ہیں اب

    کمی ہے آب و گل میں کچھ لہو میں کوئی بات ہے

    ہے ان کے واسطے تمام فتح و کامرانیاں

    مرے لیے ہمیشہ سے جو ہے تو صرف مات ہے

    میں لحظہ لحظہ کٹ کے گر رہا ہوں اندھی کھائی میں

    یہ زندگی کا راستہ نہیں ہے پل صراط ہے

    ہے وصل اپنے آپ سے فراق اپنے آپ سے

    نہیں ہے کوئی بھی یہاں بس ایک میری ذات ہے

    مامونؔ ازل سے تا ابد نہیں ہے کوئی روشنی

    خلا میں دور دور تک بس اک عظیم رات ہے

    مآخذ :
    • کتاب : Sanson Ke Paar (Pg. 218)
    • Author : Khalil Mamoon
    • مطبع : Educational Publishing House, Delhi (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY