نہ پوچھ راہ طلب میں کدھر سے گزرا ہوں

آرزو سہارنپوری

نہ پوچھ راہ طلب میں کدھر سے گزرا ہوں

آرزو سہارنپوری

MORE BYآرزو سہارنپوری

    نہ پوچھ راہ طلب میں کدھر سے گزرا ہوں

    ترے ہی پاس سے گزرا جدھر سے گزرا ہوں

    خدا گواہ کہ دل میں خلوص غم لے کر

    بہ احترام شب بے سحر سے گزرا ہوں

    تری نظر کو بھی اب تک خبر نہیں اے دوست

    اس احتیاط سے تیری نظر سے گزرا ہوں

    ترے خیال کو بھی ٹھیس لگ نہ جائے کہیں

    بہت سنبھل کے غم معتبر سے گزرا ہوں

    کبھی کبھی تو اک ایسا مقام آیا ہے

    میں حسن بن کے خود اپنی نظر سے گزرا ہوں

    بس اس قدر ہے مری شرح سرگزشت حیات

    کسی کی اک نگہ مختصر سے گزرا ہوں

    کسے بتاؤں کیا اے آرزوؔ میں کتنی بار

    خود ان کے ذہن میں ان کی نظر سے گزرا ہوں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY