نہ رہے تم جو ہمارے تو سہارا نہ رہا

بسمل الہ آبادی

نہ رہے تم جو ہمارے تو سہارا نہ رہا

بسمل الہ آبادی

MORE BYبسمل الہ آبادی

    دلچسپ معلومات

    16 ؍ اپریل 1925 ؁ء حسب فرمائش منشی مہادیو پرشاد سری واستو ایم ۔ اے ایل ایل بی ۔ الہ آباد

    نہ رہے تم جو ہمارے تو سہارا نہ رہا

    کوئی دنیائے محبت میں ہمارا نہ رہا

    اب کوئی اور زمانے میں سہارا نہ رہا

    جس کو کہتے تھے ہمارا ہے ہمارا نہ رہا

    دے دیا حضرت عیسیٰ نے اسے صاف جواب

    تیرے بیمار کا اب کوئی سہارا نہ رہا

    کیا کہیں حال زمانے کا خلاصہ یہ ہے

    تم ہمارے نہ رہے کوئی ہمارا نہ رہا

    کیا کہوں انجمن ناز کا حال اے بسملؔ

    سب کے چرچے رہے بس ذکر تمہارا نہ رہا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY