نہ سمجھے کوئی اس سے دشمنی ہے

برقی اعظمی

نہ سمجھے کوئی اس سے دشمنی ہے

برقی اعظمی

MORE BYبرقی اعظمی

    نہ سمجھے کوئی اس سے دشمنی ہے

    مری اک کم سخن سے دوستی ہے

    سبھی کے کام آئے ابن آدم

    یہی دراصل حسن زندگی ہے

    جسے پڑھنا ہو اس میں پڑھ لے سب کچھ

    کھلی میری کتاب زندگی ہے

    مرے کس کام کا ایسا سمندر

    لب ساحل بھی جس کے تشنگی ہے

    ہو روداد زمانہ کی جو مظہر

    وہی دراصل روح شاعری ہے

    مرے دل پر ہے جس کی حکمرانی

    ابھی اس میں ادائے کمسنی ہے

    ہے جس کا آج گرویدہ زمانہ

    جہان رنگ و بو یہ عارضی ہے

    عجم کی طرح ہے گونگا عرب بھی

    یہ اس کی مصلحت یا بے حسی ہے

    نہیں فرصت تن آسانی سے اس کو

    الم انگیز یہ آدم کشی ہے

    بپا ہے حشر سے پہلے ہی محشر

    کہیں دختر کہیں مادر پڑی ہے

    کوئی شطرنج بازی میں ہے مشغول

    کسی کی جان پر اپنی بنی ہے

    دعائے اہل غزہ سن لے یا رب

    مصیبت کی یہ اک ایسی گھڑی ہے

    انہیں ہے صرف تیرا ہی سہارا

    جہاں بھائی سے بھائی اجنبی ہے

    اگر اس میں ہو برقیؔ آدمیت

    فرشتوں سے بھی افضل آدمی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY