نہ سنتی ہے نہ کہنا چاہتی ہے

منظور ہاشمی

نہ سنتی ہے نہ کہنا چاہتی ہے

منظور ہاشمی

MORE BYمنظور ہاشمی

    نہ سنتی ہے نہ کہنا چاہتی ہے

    ہوا اک راز رہنا چاہتی ہے

    نہ جانے کیا سمائی ہے کہ اب کی

    ندی ہر سمت بہنا چاہتی ہے

    سلگتی راہ بھی وحشت نے چن لی

    سفر بھی پا برہنہ چاہتی ہے

    تعلق کی عجب دیوانگی ہے

    اب اس کے دکھ بھی سہنا چاہتی ہے

    اجالے کی دعاؤں کی چمک بھی

    چراغ شب میں رہنا چاہتی ہے

    بھنور میں آندھیوں میں بادباں میں

    ہوا مصروف رہنا چاہتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY