نہ وہ گھر رہا نہ وہ بام و در نہ وہ چلمنیں نہ وہ پالکی

ضیا فاروقی

نہ وہ گھر رہا نہ وہ بام و در نہ وہ چلمنیں نہ وہ پالکی

ضیا فاروقی

MORE BYضیا فاروقی

    نہ وہ گھر رہا نہ وہ بام و در نہ وہ چلمنیں نہ وہ پالکی

    مگر اب بھی میری زباں پہ ہے وہی داستاں سن و سال کی

    چلو بال و پر کو سمیٹ لیں کریں فکر اب کسی ڈال کی

    یہ غروب مہر کا وقت ہے یہ گھڑی ہے دن کے زوال کی

    سبھی موسموں سے گزر گیا کوئی بوجھ دل پہ لئے ہوئے

    مجھے راس آئی نہ رت کوئی نہ وہ ہجر کی نہ وصال کی

    تھا دلوں کا یہ بھی اک امتحاں کہ تکلفات تھے درمیاں

    مجھے ڈر تھا اس کے جواب کا اسے فکر میرے سوال کی

    جو چلے تو راہ اماں نہیں جو رکے تو منزلیں کھو گئیں

    تری رہ گزر بھی عجیب ہے تری منزلیں بھی کمال کی

    مرے زخم سارے مہک اٹھے جو چلی ہوائے نہال غم

    کوئی دشت جاں سے گزر گیا اٹھی گرد تیرے خیال کی

    وہ مجھے ملا بھی تو اس طرح ملیں جیسے شمس و قمر ضیاؔ

    تھا جو لمحہ اس کے عروج کا وہ گھڑی تھی میرے زوال کی

    مأخذ :
    • کتاب : Pas-e-Gard-e-Safar (Pg. 40)
    • Author : Zia Farooqui
    • مطبع : Educational Publishing House (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY