نہ زندگی سے شکایت نہ تم سے شکوہ ہے

عقیل شاداب

نہ زندگی سے شکایت نہ تم سے شکوہ ہے

عقیل شاداب

MORE BYعقیل شاداب

    نہ زندگی سے شکایت نہ تم سے شکوہ ہے

    مرا لباس ہی میرے لہو کا پیاسا ہے

    بدن کو چھوڑ کے جاؤں تو اب کہاں جاؤں

    جنم جنم سے مرا اس کے ساتھ رشتہ ہے

    مرا وجود مری اپنی ہی نگاہوں میں

    لباس جسم کے ہوتے ہوئے بھی ننگا ہے

    صلیب لاؤ اسے سرخ رو کیا جائے

    کوئی کتاب لیے آسماں سے اترا ہے

    تمہارے جسم میں میں ہوں مرے وجود میں تم

    ہر ایک آدمی اک دوسرے میں زندہ ہے

    تم اپنے آپ سے کیوں اجنبی سے لگتے ہو

    تمہارے جسم پہ شادابؔ کس کا پہرہ ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY