ناخوش گدائی سے نہ وہ شاہی سے خوش ہوئے

رؤف خیر

ناخوش گدائی سے نہ وہ شاہی سے خوش ہوئے

رؤف خیر

MORE BYرؤف خیر

    ناخوش گدائی سے نہ وہ شاہی سے خوش ہوئے

    مظلوم ظالموں کی تباہی سے خوش ہوئے

    صد منزلہ وہ قصر انا ڈھیر ہو گیا

    احباب پل صراط کے راہی سے خوش ہوئے

    زندہ دلوں پہ رشک تو کرتی ہے موت بھی

    ہم سرفروش عہد الٰہی سے خوش ہوئے

    فرزیں کے سامنے ہے پیادہ ڈٹا ہوا

    اہل بساط ایسے سپاہی سے خوش ہوئے

    وہ طالبان سر یہ مشرف بہ مال و زر

    ذہنی غلام ظل الٰہی سے خوش ہوئے

    کیا خاک ٹک سکیں گے خریدے ہوئے گواہ

    سرکار آپ کیسی گواہی سے خوش ہوئے

    آتے نہیں ہیں خیر اجالے میں بعض لوگ

    شب زندہ دار شب کی سیاہی سے خوش ہوئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY