ناخوش جو ہو گل بدن کسی کا

سخی لکھنوی

ناخوش جو ہو گل بدن کسی کا

سخی لکھنوی

MORE BYسخی لکھنوی

    ناخوش جو ہو گل بدن کسی کا

    کیا بھائے اسے سخن کسی کا

    گل کی مجھے کیوں کلی دکھائی

    یاد آ گیا پھر دہن کسی کا

    ہر سنگ کی کوہ پر صدا ہے

    یاں دفن ہے کوہ کن کسی کا

    کرتے ہو پسند وحشت دل

    لے جاؤ گے کیا ہرن کسی کا

    بھولی ہے صبا قبائے گل پر

    دیکھا نہیں پیرہن کسی کا

    عاشق ہی کے جب نہ کام آیا

    کس کام کا بانکپن کسی کا

    آ جائے کسی کی موت مجھ کو

    مل جائے مجھے کفن کسی کا

    سینہ سے ہمارا دل نہ لے جاؤ

    چھڑواتے ہو کیوں وطن کسی کا

    گاتے ہیں سخیؔ ہی کی غزل وہ

    بھاتا ہی نہیں سخن کسی کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے