نالاں ہوا ہے جل کر سینے میں من ہمارا

آبرو شاہ مبارک

نالاں ہوا ہے جل کر سینے میں من ہمارا

آبرو شاہ مبارک

MORE BYآبرو شاہ مبارک

    نالاں ہوا ہے جل کر سینے میں من ہمارا

    پنجرے میں بولتا ہے گرم آج اگن ہمارا

    پیری کمان کی جوں مانع نہیں اکڑ کوں

    ہے ضعف بیچ دونا اب بانکپن ہمارا

    چلتا ہے جیو جس پر جاتے ہیں اس کے پیچھے

    سودے میں عشق کے ہے اب یہ چلن ہمارا

    ملنے کی حکمتیں سب آتی ہیں ہم کو اک اک

    گو بوعلی ہو لونڈا کھاتا ہے فن ہمارا

    مجلس میں عاشقوں کی اور ہی بہار ہو جا

    آوے جبھی رنگیلا گل پیرہن ہمارا

    اس وقت جان پیارے ہم پاوتے ہیں جی سا

    لگتا ہے جب بدن سے تیرے بدن ہمارا

    یہ مسکراؤنا ہے تو کس طرح جیوں گا

    تم کو تو یہ ہنسی ہے پر ہے مرن ہمارا

    عزت ہے جوہری کی جو قیمتی ہو گوہر

    ہے آبروؔ ہمن کوں جگ میں سخن ہمارا

    مأخذ :
    • کتاب : Deewan-e-Aabro (Pg. 99)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY