ندامت ہے بنا کر اس چمن میں آشیاں مجھ کو

نظم طبا طبائی

ندامت ہے بنا کر اس چمن میں آشیاں مجھ کو

نظم طبا طبائی

MORE BYنظم طبا طبائی

    ندامت ہے بنا کر اس چمن میں آشیاں مجھ کو

    ملا ہمدم یہاں کوئی نہ کوئی ہم زباں مجھ کو

    دکھائے جا روانی توسن عمر رواں مجھ کو

    ہلال برق سے رکھ ہم رکاب و ہم عناں مجھ کو

    بنایا ناتوانی نے سلیمان زماں مجھ کو

    اڑا کر لے چلے موج نسیم بوستاں مجھ کو

    دم صبح ازل سے میں نوا سنجوں میں ہوں تیرے

    بتایا بلبل سدرہ نے انداز فغاں مجھ کو

    مری باتوں میں کیا معلوم کب سوئے وہ کب جاگے

    سرے سے اس لیے کہنی پڑی پھر داستاں مجھ کو

    بہا کر قافلہ سے دور جسم زار کو پھینکا

    کہ موج سیل تھی بانگ درائے کارواں مجھ کو

    یہ دل کی بے قراری خاک ہو کر بھی نہ جائے گی

    سناتی ہے لب ساحل سے یہ ریگ رواں مجھ کو

    اڑائی خاک جس صحرا میں تیرے واسطے میں نے

    تھکا ماندہ ملا ان منزلوں میں آسماں مجھ کو

    تصور شمع کا جس کو جلا دے ہوں وہ پروانہ

    لگ اٹھی آگ دل میں جب نظر آیا دھواں مجھ کو

    وہ جس عالم میں جا پہنچا وہاں میں کس طرح جاؤں

    ہوا دل آپ سے باہر پنہا کر بیڑیاں مجھ کو

    غبار راہ سے اے نظمؔ یہ آواز آتی ہے

    گئی اے عمر رفتہ تو کدھر پھینکا کہاں مجھ کو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY