نفس نفس میں ہوں اک بوئے صد گلاب لیے

کیف عظیم آبادی

نفس نفس میں ہوں اک بوئے صد گلاب لیے

کیف عظیم آبادی

MORE BYکیف عظیم آبادی

    نفس نفس میں ہوں اک بوئے صد گلاب لیے

    میں جاگتا ہوں نگاہوں میں تیرے خواب لیے

    ہمارے عہد کے لوگوں کو کیا ہوا یارو

    وہ جی رہے ہیں مگر ریت کا سراب لیے

    میں بھول سکتا نہیں حسرت نظر اس کی

    وہ ایک شخص جو گزرا ہے اضطراب لیے

    اداس رات کی تاریکیوں نے چھیڑا ہے

    اب آ بھی جاؤ نگاہوں میں ماہتاب لیے

    یہ چلچلاتی ہوئی دھوپ جل رہا ہے بدن

    گزر رہی ہے یوں ہی حسرت سحاب لیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے