aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نہیں چمکے یہ ہنسنے میں تمہارے دانت انجم سے

اسد علی خان قلق

نہیں چمکے یہ ہنسنے میں تمہارے دانت انجم سے

اسد علی خان قلق

MORE BYاسد علی خان قلق

    نہیں چمکے یہ ہنسنے میں تمہارے دانت انجم سے

    نکل آئی تڑپ کر برق آغوش تبسم سے

    کرو تم مجھ سے باتیں اور میں باتیں کروں تم سے

    کلیم اللہ ہو جاؤں میں اعجاز تکلم سے

    صدائے لن ترانی آتی ہے ان کے تکلم سے

    گرا دیں طور دل پر صاعقہ برق تبسم سے

    فلک کو وجد ہوگا اے پری تیرے تبسم سے

    اتر آئے گی زہرہ رقص کرتی بزم انجم سے

    یہ شوق مے کشی مجنوں بنا کر مجھ کو لایا ہے

    نکل آئے کہیں لیلائے مے بھی محمل خم سے

    کیا دانتوں کو رنگیں واہ رہی باتوں کی رنگینی

    لگی آب گہر میں آگ لو برق تبسم سے

    سمند ناز کی ٹاپوں سے سر ٹکرائیں سب عاشق

    پلا شربت شہادت کا کسی دن کاسۂ سم سے

    جو وہ مہر سپہر حسن ناچے اپنی محفل میں

    تو زہرہ مشعل مہ لے کے آئے بزم انجم سے

    اسی دن پھول ہیں جس دن وہ گل تربت پہ آ بیٹھے

    سوم سے کچھ غرض مجھ کو نہ کچھ مطلب ہے پنجم سے

    جو الجھے محتسب میخانے میں ہم جائیں مسجد کو

    خدا کے گھر چلیں سر پھوڑ کر خشت سر خم سے

    فراق یار میں میری طرح سے یہ بھی روئے ہیں

    سواد شب نہیں کاجل بہا ہے چشم انجم سے

    ہوا میں رند مشرب خاک مر کر اس تمنا میں

    نماز آخر پڑیں گے وہ کسی دن تو تیمم سے

    وہی چتون وہی تیور مری آنکھوں میں پھرتے ہیں

    غضب میں پڑ گیا دیکھا عبث تم نے ترحم سے

    کہاں تک ایڑیاں رگڑیں گلا کاٹو گلا کاٹو

    اٹھاؤ تم نہ خنجر باز آیا اس ترحم سے

    جو وعدہ کرتے ہو تو صدمۂ فرقت نہ دکھلانا

    مسیحا ہوتے ہو مشہور جی اٹھتا ہوں میں تم سے

    مدلل جو سخن اپنا ہے وہ برہان قاطع ہے

    طبیعت میں روانی ہے زیادہ ہفت قلزم سے

    مرے ہیں عشق میں اک گل کے کیوں قرآں منگاتے ہو

    پڑھی جائے گلستاں میں سوم میں باب پنجم سے

    جو پہنچے تا فلک شہرہ تمہاری خود فروشی کا

    خریداری کو آئے مشتری بازار انجم سے

    عوض چونے کے گارا لائے مے کا چاہئے ساقی

    ہماری قبر اگر پکی ہو تو خشت سر خم سے

    ہمیشہ خاک چھنواؤ گے مثل قیس صحرا کی

    قلقؔ کو یہ نہ تھی امید اے لیلیٰ منش تم سے

    مأخذ:

    Mazhar-e-Ishq (Pg. e-154 p-152)

    • مصنف: اسد علی خان قلق
      • اشاعت: 1911
      • ناشر: منشی نول کشور،کانپور

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے