نہیں ہے یوں کے دما دم ہوا نے رقص کیا

آصف رشید اسجد

نہیں ہے یوں کے دما دم ہوا نے رقص کیا

آصف رشید اسجد

MORE BY آصف رشید اسجد

    نہیں ہے یوں کے دما دم ہوا نے رقص کیا

    شدید حبس تھا کم کم ہوا نے رقص کیا

    بس ایک میں ہی وہاں پر طواف میں تو نہ تھا

    درون شہر مکرم ہوا نے رقص کیا

    چراغ قتل ہوا تو خوشی سے مقتل میں

    لگا کے نعرۂ رقصم ہوا نے رقص کیا

    تمام دن کی تمازت کے بعد رات گئے

    گری جو پھول پہ شبنم ہوا نے رقص کیا

    سمندروں کے سفر سے پلٹ کے آئی تو

    ذرا ذرا سی ہوئی نم ہوا نے رقص کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY