نہیں ہوا میں یہ بو نافۂ ختن کی سی

نظیر اکبرآبادی

نہیں ہوا میں یہ بو نافۂ ختن کی سی

نظیر اکبرآبادی

MORE BY نظیر اکبرآبادی

    نہیں ہوا میں یہ بو نافۂ ختن کی سی

    لپٹ ہے یہ تو کسی زلف پر شکن کی سی

    میں ہنس کے اس لیے منہ چومتا ہوں غنچہ کا

    کہ کچھ نشانی ہے اس میں ترے دہن کی سی

    خدا کے واسطے گل کو نہ میرے ہاتھ سے لو

    مجھے بو آتی ہے اس میں کسی بدن کی سی

    ہزار تن کے چلیں بانکے خوب رو لیکن

    کسی میں آن نہیں تیرے بانکپن کی سی

    مجھے تو اس پہ نہایت ہی رشک آتا ہے

    کہ جس کے ہاتھ نے پوشاک تیرے تن کی سی

    کہا جو تم نے کہ منکا ڈھلا تو آؤں گا

    ہے بات کچھ نہ کچھ اس میں بھی مکر و فن کی سی

    وگرنہ سچ ہے تو اے جان اتنی مدت میں

    یہی بس ایک کہی تم نے میرے من کی سی

    وہ دیکھ شیخ کو لاحول پڑھ کے کہتا ہے

    ''یہ آئے دیکھیے داڑھی لگائے سن کی سی''

    کہاں تو اور کہاں اس پری کا وصل نظیرؔ

    میاں تو چھوڑ یہ باتیں دوانے پن کی سی

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY