نہیں کہ عشق نہیں ہے گل و سمن سے مجھے

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

نہیں کہ عشق نہیں ہے گل و سمن سے مجھے

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

MORE BYوحشتؔ رضا علی کلکتوی

    نہیں کہ عشق نہیں ہے گل و سمن سے مجھے

    دل فسردہ لیے جاتا ہے چمن سے مجھے

    مثال شمع ہے رونا بھی اور جلنا بھی

    یہی تو فائدہ ہے تیری انجمن سے مجھے

    بڑھی ہے یاس سے کچھ ایسی وحشت خاطر

    نکال کر ہی رہے گی یہ اب وطن سے مجھے

    عزیز اگر نہیں رکھتا نہ رکھ ذلیل ہی رکھ

    مگر نکال نہ تو اپنی انجمن سے مجھے

    وطن سمجھنے لگا ہوں میں دشت غربت کو

    زمانہ ہو گیا نکلے ہوئے وطن سے مجھے

    مرے بھی داغ جگر مثل لالہ ہیں رنگیں

    ہے چشمک اس گل خوبی کے بانکپن سے مجھے

    چھپا نہ گوشہ نشینی سے راز دل وحشتؔ

    کہ جانتا ہے زمانہ مرے سخن سے مجھے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نہیں کہ عشق نہیں ہے گل و سمن سے مجھے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY