نہیں کہ تیرے اشارے نہیں سمجھتا ہوں

ظفر اقبال

نہیں کہ تیرے اشارے نہیں سمجھتا ہوں

ظفر اقبال

MORE BY ظفر اقبال

    نہیں کہ تیرے اشارے نہیں سمجھتا ہوں

    سمجھ تو لیتا ہوں سارے نہیں سمجھتا ہوں

    ترا چڑھا ہوا دریا سمجھ میں آتا ہے

    ترے خموش کنارے نہیں سمجھتا ہوں

    کدھر سے نکلا ہے یہ چاند کچھ نہیں معلوم

    کہاں کے ہیں یہ ستارے نہیں سمجھتا ہوں

    کہیں کہیں مجھے اپنی خبر نہیں ملتی

    کہیں کہیں ترے بارے نہیں سمجھتا ہوں

    جو دائیں بائیں بھی ہیں اور آگے پیچھے بھی

    انہیں میں اب بھی تمہارے نہیں سمجھتا ہوں

    خود اپنے دل سے یہی اختلاف ہے میرا

    کہ میں غموں کو غبارے نہیں سمجھتا ہوں

    کبھی تو ہوتا ہے میری سمجھ سے باہر ہی

    کبھی میں شرم کے مارے نہیں سمجھتا ہوں

    کہیں تو ہیں جو مرے خواب دیکھتے ہیں ظفرؔ

    کوئی تو ہیں جنہیں پیارے نہیں سمجھتا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY