نہیں کسی کی توجہ خود آگہی کی طرف

ادیب سہارنپوری

نہیں کسی کی توجہ خود آگہی کی طرف

ادیب سہارنپوری

MORE BY ادیب سہارنپوری

    نہیں کسی کی توجہ خود آگہی کی طرف

    کوئی کسی کی طرف ہے کوئی کسی کی طرف

    تمہارا جلوۂ معصوم دیکھ لے اک بار

    خیال جس کا نہ جاتا ہو بندگی کی طرف

    مزاج شیخ و برہمن کی برہمی معلوم

    کہ اب حیات کا رخ ہے خود آگہی کی طرف

    نظر وہ لوگ اجالے میں خود نہ آئے کبھی

    بلا رہے ہیں جو دنیا کو روشنی کی طرف

    جتا رہے ہیں ہمیں کو نہ دیکھنا اپنا

    وہ دیکھ دیکھ کے محفل میں ہر کسی کی طرف

    ہزار بار ارادہ کئے بغیر بھی ہم

    چلے ہیں اٹھ کے تو اکثر گئے اسی کی طرف

    بتوں نے منہ نہ لگایا ادیبؔ کو شاید

    جھکے ہوئے ہیں جبھی تو یہ شیخ جی کی طرف

    مآخذ:

    • Book : mahvar (Pg. 67)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY