نہیں معلوم کتنے ہو چکے ہیں امتحاں اب تک

واصف دہلوی

نہیں معلوم کتنے ہو چکے ہیں امتحاں اب تک

واصف دہلوی

MORE BYواصف دہلوی

    نہیں معلوم کتنے ہو چکے ہیں امتحاں اب تک

    مگر تیرے وفاداروں کی ہمت ہے جواں اب تک

    یہ طوفان حوادث اور تلاطم باد و باراں کے

    محبت کے سہارے کشتئ دل ہے رواں اب تک

    کہاں چھوڑا ہے دل کو کاروان آہ و نالہ نے

    کہ ہے آوارہ منزل یوسف بے کارواں اب تک

    تلاش بحر میں قطرے نے کتنی ٹھوکریں کھائیں

    سمجھ لیتا جو خود کو بن ہی جاتا بے کراں اب تک

    دل بیمار کو ہم دم ہوائے سیر گل کیا ہو

    کہ ہے نا معتدل آب و ہوائے گلستاں اب تک

    ازل سے گوش دل میں گونجتے ہیں زمزمے تیرے

    مگر اے دوست میں نے تجھ کو پایا بے نشاں اب تک

    عیاں افسردگی گل سے ہے انجام گلشن کا

    مگر خون دل بلبل ہے صرف آشیاں اب تک

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY