نہیں مٹتیں تری یادیں ندی میں خط بہانے سے

پرمود شرما اثر

نہیں مٹتیں تری یادیں ندی میں خط بہانے سے

پرمود شرما اثر

MORE BY پرمود شرما اثر

    نہیں مٹتیں تری یادیں ندی میں خط بہانے سے

    یہ اکثر لوٹ آتی ہیں کسی دل کش بہانے سے

    بھلا پایا نہیں میں دور ماضی کے حسیں لمحے

    کبھی تو یاد بھی کر لے تعلق یہ پرانے سے

    نمک پاشی زمانے نے مرے زخموں پہ کی پیہم

    مگر میں باز کب آیا ہوں پھر بھی مسکرانے سے

    تمہیں جس کے لئے ہم نے چنا وہ کام بھی کرنا

    ملے تم کو اگر فرصت ہمارا گھر جلانے سے

    مقابل آئنے کے آ گیا ہے بھول سے شاید

    مجھے لگتا ہے کچھ ایسا ہی اس کے تلملانے سے

    قفس کو توڑنے کی اب کے اس نے بھی تو ٹھانی ہے

    یہی پیغام ملتا ہے پروں کو پھڑپھڑانے سے

    مجھے معلوم ہے ہرگز پلٹ کر آ نہیں سکتا

    گزارش ہے مگر میری اثرؔ گزرے زمانے سے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    پرمود شرما اثر

    پرمود شرما اثر

    RECITATIONS

    پرمود شرما اثر

    پرمود شرما اثر

    پرمود شرما اثر

    نہیں مٹتیں تری یادیں ندی میں خط بہانے سے پرمود شرما اثر

    مآخذ:

    • کتاب : Rang Sapno ke (Pg. 89)
    • Author : Pramod Sharma 'Asar'
    • مطبع : Amrit Parkashan (2016)
    • اشاعت : 2016

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY