نہیں سمجھی تھی جو سمجھا رہی ہوں

فاطمہ حسن

نہیں سمجھی تھی جو سمجھا رہی ہوں

فاطمہ حسن

MORE BYفاطمہ حسن

    نہیں سمجھی تھی جو سمجھا رہی ہوں

    اب الجھی ہوں تو کھلتی جا رہی ہوں

    بہت گہری ہے اس کی خامشی بھی

    میں اپنے قد کو چھوٹا پا رہی ہوں

    امنڈ آیا ہے شور اوروں کے گھر سے

    دریچے کھول کے پچھتا رہی ہوں

    ہجوم اتنا کہ چہرے بھول جاؤں

    بساط ذات کو پھیلا رہی ہوں

    یہ منظر پوچھتے ہیں مجھ سے اکثر

    کہاں سے آئی ہوں کیوں جا رہی ہوں

    اگر سچ ہے تو پھر ثابت کرو تم

    میں اپنے آپ کو جھٹلا رہی ہوں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    فاطمہ حسن

    فاطمہ حسن

    فاطمہ حسن

    فاطمہ حسن

    مآخذ :
    • کتاب : dast se dar ka faasla (Pg. 30)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY