نقیب بخت سارے سو چکے ہیں

وقار سحر

نقیب بخت سارے سو چکے ہیں

وقار سحر

MORE BY وقار سحر

    نقیب بخت سارے سو چکے ہیں

    بالآخر بے سہارے سو چکے ہیں

    کسی سے خواب میں ملنا ہے شاید

    کہ وہ گیسو سنوارے سو چکے ہیں

    مجھے بھی خود سے وحشت ہو رہی ہے

    سبھی جذبے تمہارے سو چکے ہیں

    کئی مایوس ماہی گیر آخر

    سمندر کے کنارے سو چکے ہیں

    شب تنہائی جوں توں کٹ رہی ہے

    غم فرقت کے مارے سو چکے ہیں

    مقفل پھر سے کر لو کوٹھری کو

    سحرؔ سو جاؤ تارے سو چکے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites