نرغے میں گھٹاؤں کے رہا ہے نہ رہے گا

ایاز احمد طالب

نرغے میں گھٹاؤں کے رہا ہے نہ رہے گا

ایاز احمد طالب

MORE BYایاز احمد طالب

    نرغے میں گھٹاؤں کے رہا ہے نہ رہے گا

    خورشید محبت کا چھپا ہے نہ چھپے گا

    ہو جاتے ہیں ناکام خرد مندوں کے فتنے

    سر اہل جنوں کا نہ جھکا ہے نہ جھکے گا

    تم کیوں ہو پریشان کہ تقدیر کا لکھا

    دنیا کے مٹانے سے مٹا ہے نہ مٹے گا

    ترکش سے تکبر کے جو اترا کے چلا ہے

    وہ تیر نشانے پہ لگا ہے نہ لگے گا

    تعلیم و ہنر ہی وہ خزانہ ہے جو اب تک

    دولت کے لٹیروں سے لٹا ہے نہ لٹے گا

    ہو جاتا ہے فوراً جو پشیمان خطا پر

    نظروں سے عزیزوں کی گرا ہے نہ گرے گا

    منصب جہاں ظالم کے اثر میں ہو وہاں پر

    مظلوم کو انصاف ملا ہے نہ ملے گا

    حاجت سے زیادہ کی طلب سب کو ہے طالبؔ

    قسمت سے سوا پھر بھی ملا ہے نہ ملے گا

    مآخذ :
    • کتاب : Almaas (Pg. 44)
    • Author : Ayaz Ahmad Talib
    • مطبع : Ayaz Ahmad Talib (2010)
    • اشاعت : 2010

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY