نشہ شوق ہے فزوں شب کو ابھی سحر نہ کر

مجید اختر

نشہ شوق ہے فزوں شب کو ابھی سحر نہ کر

مجید اختر

MORE BYمجید اختر

    نشہ شوق ہے فزوں شب کو ابھی سحر نہ کر

    دیکھ حدیث دلبراں اتنی بھی مختصر نہ کر

    سارا حساب جان و دل رکھا ہے تیرے سامنے

    چاہے تو دے اماں مجھے چاہے تو درگزر نہ کر

    اپنوں سے ہار جیت کا کیسے کرے گا فیصلہ

    اے مرے دل ٹھہر ذرا یہ جو مہم ہے سر نہ کر

    اس کا یہ حسن وہم ہے تیرا یہ عشق ہے گماں

    اتنا یقین دل مرے وہم و گمان پر نہ کر

    ہجرت نو کا مسئلہ بڑھتے قدم نہ روک لے

    سو مری جاں سفر میں رہ دار فنا میں گھر نہ کر

    اتنا تو وقت دے کبھی خود سے کروں مکالمہ

    اے مری عمر تیز رو ایسے مجھے بسر نہ کر

    میری اڑان ہے مرے رب کریم کی عطا

    یوں مرے ضد میں منتشر اپنے یہ بال و پر نہ کر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY