نشہ کرنے کا بہانہ ہو گیا

حنیف ترین

نشہ کرنے کا بہانہ ہو گیا

حنیف ترین

MORE BYحنیف ترین

    نشہ کرنے کا بہانہ ہو گیا

    جب ذرا موسم سہانا ہو گیا

    تجھ سے ملنا تو کجا اے جان جاں

    تجھ کو دیکھے اب زمانہ ہو گیا

    مڑ کے دیکھا جب بھی پیچھے کی طرف

    آج دھندلا کل فسانہ ہو گیا

    گلستاں زادے بہت ہی شاد ہیں

    جب سے زنداں میں ٹھکانہ ہو گیا

    جیت حق کی ظالموں کے واسطے

    خوں بہانے کا بہانہ ہو گیا

    سچ لکھوں گا چاہے مٹ جاؤں حنیفؔ

    جھوٹ اب میرا نشانہ ہو گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY