نسیم صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہوگی

سیماب اکبرآبادی

نسیم صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہوگی

سیماب اکبرآبادی

MORE BYسیماب اکبرآبادی

    نسیم صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہوگی

    کسی کی آخری ہچکی کسی کی دل لگی ہوگی

    تجھے دانستہ محفل میں جو دیکھا ہو تو مجرم ہوں

    نظر آخر نظر ہے بے ارادہ اٹھ گئی ہوگی

    مزہ آ جائے گا محشر میں کچھ سننے سنانے کا

    زباں ہوگی ہماری اور کہانی آپ کی ہوگی

    یہی عالم رہا پردہ نشینی کا تو ظاہر ہے

    خدائی آپ سے ہوگی نہ ہم سے بندگی ہوگی

    تعجب کیا لگی جو آگ اے سیمابؔ سینے میں

    ہزاروں دل میں انگارے بھرے تھے لگ گئی ہوگی

    مأخذ :
    • کتاب : Junoon (Pg. 208)
    • Author : Naseem Muqri
    • مطبع : Naseem Muqri (1990)
    • اشاعت : 1990

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY