نسیم صبح یوں لے کر ترا پیغام آتی ہے

واصف دہلوی

نسیم صبح یوں لے کر ترا پیغام آتی ہے

واصف دہلوی

MORE BYواصف دہلوی

    نسیم صبح یوں لے کر ترا پیغام آتی ہے

    پری جیسے کوئی ہاتھوں میں لے کر جام آتی ہے

    وہ منظر بھی کبھی دیکھا ہے اہل کارواں تم نے

    امنڈ کر جب کسی بچھڑے ہوئے پر شام آتی ہے

    یہاں اب ناتوانی سے قدم بھی اٹھ نہیں سکتے

    ادھر محفل سے ساقی کی صلائے عام آتی ہے

    کسی کا خون دل کھنچ کر ٹپک جاتا ہے آنکھوں سے

    کسی کی آنکھ میں کھنچ کر مئے گلفام آتی ہے

    مقدر کا ستارہ گر نہ ہو رخشندہ اے واصفؔ

    نہ ہمت ساتھ دیتی ہے نہ حکمت کام آتی ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نسیم صبح یوں لے کر ترا پیغام آتی ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY