نوجوانی کی دید کر لیجے

میر حسن

نوجوانی کی دید کر لیجے

میر حسن

MORE BYمیر حسن

    نوجوانی کی دید کر لیجے

    اپنے موسم کی عید کر لیجے

    کون کہتا ہے کون سنتا ہے

    اپنی گفت و شنید کر لیجے

    اب کے بچھڑے ملوگے پھر کہ نہیں

    کچھ تو وعدہ وعید کر لیجے

    اپنے گیسو دراز کے مجھ کو

    سلسلے میں مرید کر لیجے

    ہے مثل ایک ناہ صد آسان

    یاس ہی کو امید کر لیجے

    ہاں عدم میں کہاں ہے عشق بتاں

    اس کو یاں سے خرید کر لیجے

    وصل تب ہو ادھر جب ایدھر سے

    پہلے قطع و برید کر لیجے

    قتل کیا بے گنہ کا مشکل ہے

    چاہیئے جب شہید کر لیجے

    اس کی الفت میں روتے روتے حسنؔ

    یہ سیہ کو سپید کر لیجے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے