نواح جاں میں کسی کے اترنا چاہا تھا

فراغ روہوی

نواح جاں میں کسی کے اترنا چاہا تھا

فراغ روہوی

MORE BYفراغ روہوی

    نواح جاں میں کسی کے اترنا چاہا تھا

    یہ جرم میں نے بس اک بار کرنا چاہا تھا

    جو بت بناؤں گا تیرا تو ہاتھ ہوں گے قلم

    یہ جانتے ہوئے جرمانہ بھرنا چاہا تھا

    بغیر اس کے بھی اب دیکھیے میں زندہ ہوں

    وہ جس کے ساتھ کبھی میں نے مرنا چاہا تھا

    شب فراق اجل کی تھی آرزو مجھ کو

    یہ روز روز تو میں نے نہ مرنا چاہا تھا

    کشید عطر کیا جا رہا ہے اب مجھ سے

    کہ مشک بن کے فضا میں بکھرنا چاہا تھا

    اس ایک بات پہ ناراض ہیں سبھی سورج

    کہ میں نے ان سا افق پر ابھرنا چاہا تھا

    لگا رہا ہے جو شرطیں مری اڑانوں پر

    مرے پروں کو اسی نے کترنا چاہا تھا

    اسی طرف ہے زمانہ بھی آج محو سفر

    فراغؔ میں نے جدھر سے گزرنا چاہا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے