نیا سورج نیا دریا نئی کشتی بناتے ہیں

صابر

نیا سورج نیا دریا نئی کشتی بناتے ہیں

صابر

MORE BYصابر

    نیا سورج نیا دریا نئی کشتی بناتے ہیں

    نئی تصویر میں دنیا ذرا میلی بناتے ہیں

    ذرا سا کیوٹ کر دیتے ہیں اندیشوں کے بھوتوں کو

    مگر امید کی پریاں ذرا اگلی بناتے ہیں

    مکمل سوچ لیتے ہیں چلو اس بار پھر تجھ کو

    چلو اس بار بھی صورت تری آدھی بناتے ہیں

    یقینی بات ہے باطن کی تاریکی نہ کم ہوگی

    تسلی کے لیے ظاہر کو نورانی بناتے ہیں

    جہاں خوابوں کا کمبل اوڑھ کر سوتی ہیں آوازیں

    وہیں راتوں میں کچھ دیوانے خاموشی بناتے ہیں

    وہ کنکر پھینکتے ہیں جھیل میں کیا سوچ کر صابرؔ

    فنا کرتے ہیں خود کو یا کہ لا ثانی بناتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY