نظر جو آتا ہے باہر میں کب وہ اندر ہوں

علقمہ شبلی

نظر جو آتا ہے باہر میں کب وہ اندر ہوں

علقمہ شبلی

MORE BY علقمہ شبلی

    نظر جو آتا ہے باہر میں کب وہ اندر ہوں

    میں آدمی ہوں کہاں آدمی کا پیکر ہوں

    رہا جو بھیڑ میں بھی مشفقوں کی سرافراز

    خدا گواہ میں ویسا ہی ایک مصدر ہوں

    سفینہ کوئی سلامت نہ رہ سکے گا اب

    قسم خدا کی میں بپھرا ہوا سمندر ہوں

    یہ اور بات کہ تم کو میں یاد آ نہ سکا

    وگرنہ آج بھی محفل میں ہر زباں پر ہوں

    تھی میری ذات کبھی کائنات کا محور

    حصار ذات میں لیکن میں آج ششدر ہوں

    دلوں کے بند دریچے بھی جس سے کھل جائیں

    جو پڑھ سکو تو پڑھے جاؤ میں وہ منتر ہوں

    جو پڑھ سکے نہ مرا چہرہ بھی وہ خودبیں تم

    جو درد لمحوں کا سمجھے میں وہ قلندر ہوں

    مآخذ:

    • کتاب : Be-Chehrah Lamhe (Pg. 23)
    • Author : Alqama Shibli
    • مطبع : Shaharyaar Brothers Publications (1975)
    • اشاعت : 1975

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY