نظر کی دھوپ میں آنے سے پہلے

سرفراز زاہد

نظر کی دھوپ میں آنے سے پہلے

سرفراز زاہد

MORE BYسرفراز زاہد

    نظر کی دھوپ میں آنے سے پہلے

    گلابی تھا وہ سنولانے سے پہلے

    سنا ہے کوئی دیوانہ یہاں پر

    رہا کرتا تھا ویرانے سے پہلے

    کھلا کرتے تھے خوابوں میں کسی کے

    ترے تکیے پہ مرجھانے سے پہلے

    محبت عام سا اک واقعہ تھا

    ہمارے ساتھ پیش آنے سے پہلے

    نظر آتے تھے ہم اک دوسرے کو

    زمانے کو نظر آنے سے پہلے

    تعجب ہے کہ اس دھرتی پہ کچھ لوگ

    جیا کرتے تھے مر جانے سے پہلے

    رہا کرتا تھا اپنے زعم میں وہ

    ہمارے دھیان میں آنے سے پہلے

    مزین تھی کسی کے خال و خد سے

    ہماری شام پیمانے سے پہلے

    مأخذ :
    • کتاب : Dunya Zaad (Pg. 120)
    • اشاعت : 2012

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY