نظر نظر سے وہ کلیاں کھلا کھلا بھی گیا

صادق نسیم

نظر نظر سے وہ کلیاں کھلا کھلا بھی گیا

صادق نسیم

MORE BYصادق نسیم

    نظر نظر سے وہ کلیاں کھلا کھلا بھی گیا

    گل مراد کو قدموں میں روندتا بھی گیا

    بلند شاخ کے گل کی طرح نہ ہاتھ آیا

    وہ رفعتوں پہ رہا اپنی چھب دکھا بھی گیا

    مجھے نوید جدائی سنانے آیا تھا

    جدا ہوا تو مری سمت دیکھتا بھی گیا

    وہ زخم زخم پہ مرہم لگانے آیا تھا

    ادائے بخیہ گری سے انہیں دکھا بھی گیا

    وہ میرا شعلہ جبیں موجۂ ہوا کی طرح

    دیئے جلا بھی گیا اور دیئے بجھا بھی گیا

    وہ کم نگاہ تھا کم ظرف تو نہ تھا کہ مجھے

    پیالہ دے بھی گیا تشنگی بڑھا بھی گیا

    سخن کے آئنوں میں دیکھ دیکھ اپنے نقوش

    جھجک جھجک بھی گیا اور جھومتا بھی گیا

    مری ہی طرح تھا وہ بھی جنوں کی زد میں مگر

    مجھے سنبھال کے خود کو سنبھالتا بھی گیا

    وہ جس کا دامن شفاف اب بھی ہے بے داغ

    وفور شوق میں مجھ کو گلے لگا بھی گیا

    اس اک نظارے میں تھے کتنے دیدنی پہلو

    وہ میرے حال پہ رویا بھی مسکرا بھی گیا

    غم وداع میں پنہاں تھا اور بھی اک غم

    کہ دل سے شوق ملاقات بارہا بھی گیا

    فراق یوسف گم گشتہ کم نہ تھا صادق

    کہ میرے ہاتھ سے کنعان کوئٹہ بھی گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY