نگاہ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا

فراق گورکھپوری

نگاہ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا

فراق گورکھپوری

MORE BY فراق گورکھپوری

    نگاہ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا

    حجاب اہل محبت کو آئے ہیں کیا کیا

    جہاں میں تھی بس اک افواہ تیرے جلووں کی

    چراغ دیر و حرم جھلملائے ہیں کیا کیا

    دو چار برق تجلی سے رہنے والوں نے

    فریب نرم نگاہی کے کھائے ہیں کیا کیا

    دلوں پہ کرتے ہوئے آج آتی جاتی چوٹ

    تری نگاہ نے پہلو بچائے ہیں کیا کیا

    نثار نرگس مے گوں کہ آج پیمانے

    لبوں تک آئے ہوئے تھرتھرائے ہیں کیا کیا

    وہ اک ذرا سی جھلک برق کم نگاہی کی

    جگر کے زخم نہاں مسکرائے ہیں کیا کیا

    چراغ طور جلے آئنہ در آئینہ

    حجاب برق ادا نے اٹھائے ہیں کیا کیا

    بقدر ذوق نظر دید حسن کیا ہو مگر

    نگاہ شوق میں جلوے سمائے ہیں کیا کیا

    کہیں چراغ کہیں گل کہیں دل برباد

    خرام ناز نے فتنے اٹھائے ہیں کیا کیا

    تغافل اور بڑھا اس غزال رعنا کا

    فسون غم نے بھی جادو جگائے ہیں کیا کیا

    ہزار فتنۂ بیدار خواب رنگیں میں

    چمن میں غنچۂ گل رنگ لائے ہیں کیا کیا

    ترے خلوص نہاں کا تو آہ کیا کہنا

    سلوک اچٹے بھی دل میں سمائے ہیں کیا کیا

    نظر بچا کے ترے عشوہ ہائے پنہاں نے

    دلوں میں درد محبت اٹھائے ہیں کیا کیا

    پیام حسن پیام جنوں پیام فنا

    تری نگہ نے فسانے سنائے ہیں کیا کیا

    تمام حسن کے جلوے تمام محرومی

    بھرم نگاہ نے اپنے گنوائے ہیں کیا کیا

    فراقؔ راہ وفا میں سبک روی تیری

    بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگائے ہیں کیا کیا

    مآخذ:

    • Book : Gul-e-Naghma (Pg. 27)
    • Author :  Firaq Gorakhpuri
    • مطبع : Maktaba Farogh-e-urdu Matia Mahal Jama Masjid Delhi (2006)
    • اشاعت : 2006

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY