نگاہیں جھک گئیں آیا شباب آہستہ آہستہ

ہاشم علی خاں دلازاک

نگاہیں جھک گئیں آیا شباب آہستہ آہستہ

ہاشم علی خاں دلازاک

MORE BYہاشم علی خاں دلازاک

    نگاہیں جھک گئیں آیا شباب آہستہ آہستہ

    پڑا آنکھوں پہ پلکوں کا حجاب آہستہ آہستہ

    سوالی بن کے جب مشتاق نظریں پڑ گئیں ان پر

    نگاہوں نے دیا ان کی جواب آہستہ آہستہ

    کبھی اشکوں کے طوفاں میں کبھی مژگاں سے داماں میں

    لہو کا دل بہا یوں بے حساب آہستہ آہستہ

    اسی امید پر تو جی رہے ہیں ہجر کے مارے

    کبھی تو رخ سے اٹھے گی نقاب آہستہ آہستہ

    خیالوں سے رخ زیبا جو اکثر دیکھ لیتا ہے

    مٹا جاتا ہے وہ بھی کیف خواب آہستہ آہستہ

    رخ زیبا پہ لہریں لیتی ہیں کچھ اس طرح زلفیں

    کہ جیسے چاند پر چھائے سحاب آہستہ آہستہ

    متاع زندگی سمجھا تھا سوز غم کو میں ہاشمؔ

    مٹا جانا ہے وہ بھی اضطراب آہستہ آہستہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY