نیند مستوں کو کہاں اور کدھر کا تکیہ

انشا اللہ خاں انشا

نیند مستوں کو کہاں اور کدھر کا تکیہ

انشا اللہ خاں انشا

MORE BYانشا اللہ خاں انشا

    نیند مستوں کو کہاں اور کدھر کا تکیہ

    خشت خم خانہ ہے یاں اپنے تو سر کا تکیہ

    لخت دل آ کے مسافر سے ٹھہرتے ہیں یہاں

    چشم ہے ہم سے گداؤں کی گزر کا تکیہ

    جس طرف آنکھ اٹھا دیکھیے ہو جائے اثر

    ہم تو رکھتے ہیں فقط اپنی نظر کا تکیہ

    چین ہرگز نہیں مخمل کے اسے تکیے پر

    اس پری کے لیے ہو حور کے پر کا تکیہ

    ہاتھ اپنے کے سوا اور تو کیا ہو ہیہات

    والہ و در بہ در و خاک بسر کا تکیہ

    سر تو چاہے ہے مرا ہووے میسر تیرے

    ہاتھ کا بازو کا زانو کا کمر کا تکیہ

    یہ تو حاصل ہے کہاں بھیج دے لیکن مجھ کو

    جس میں بالوں کی ہو بو تیرے ہو سر کا تکیہ

    تیکھے پن کے ترے قربان اکڑ کے صدقے

    کیا ہی بیٹھا ہے لگا کر کے سپر کا تکیہ

    گرچہ ہم سخت گنہ گار ہیں لیکن واللہ

    دل میں جو ڈر ہے ہمیں ہے اسی ڈر کا تکیہ

    گریہ و آہ و فغاں نالہ و یا رب فریاد

    سب کو ہے ہر شب و روز اپنے اثر کا تکیہ

    رند و آزاد ہوئے چھوڑ علاقہ سب کا

    ڈھونڈھتے کب ہیں پدر اور پسر کا تکیہ

    گر بھروسا ہے ہمیں اب تو بھروسا تیرا

    اور تکیہ ہے اگر تیرے ہی در کا تکیہ

    شوق سے سوئیے سر رکھ کے مرے زانو پر

    اس کو مت سمجھئے کچھ خوف و خطر کا تکیہ

    جب تلک آپ نہ جاگیں گے رہے گا یوں ہی

    سرکے گا تب ہی کہ جب کہیے گا سرکا تکیہ

    لطف ایزدی ہی سے امید ہے انشا اللہ

    کچھ نہیں رکھتے ہیں ہم فضل و ہنر کا تکیہ

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    نیند مستوں کو کہاں اور کدھر کا تکیہ فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY