نکلا ہوں شہر خواب سے ایسے عجیب حال میں

ذوالفقار عادل

نکلا ہوں شہر خواب سے ایسے عجیب حال میں

ذوالفقار عادل

MORE BYذوالفقار عادل

    نکلا ہوں شہر خواب سے ایسے عجیب حال میں

    غرب مرے جنوب میں شرق مرے شمال میں

    کوئی کہیں سے آئے اور مجھ سے کہے کہ زندگی

    تیری تلاش میں ہے دوست بیٹھا ہے کس خیال میں

    ڈھونڈتے پھر رہے ہیں سب میری جگہ مرا سبب

    کوئی ہزار میل میں کوئی ہزار سال میں

    لفظوں کے اختصار سے کم تو ہوئی سزا مری

    پہلے کہانیوں میں تھا اب ہوں میں اک مثال میں

    میز پہ روز صبح دم تازہ گلاب دیکھ کر

    لگتا نہیں کہ ہو کوئی مجھ سا مرے عیال میں

    پھول کہاں سے آئے تھے اور کہاں چلے گئے

    وقت نہ تھا کہ دیکھتا پودوں کی دیکھ بھال میں

    کمروں میں بستروں کے بیچ کوئی جگہ نہیں بچی

    خواب ہی خواب ہیں یہاں آنکھوں کے ہسپتال میں

    گرگ و سمند و موش و سگ چھانٹ کے ایک ایک رگ

    پھرتے ہیں سب الگ الگ رہتے ہیں ایک کھال میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY