پائے ہوئے اس وقت کو کھونا ہی بہت ہے

ظفر اقبال

پائے ہوئے اس وقت کو کھونا ہی بہت ہے

ظفر اقبال

MORE BYظفر اقبال

    پائے ہوئے اس وقت کو کھونا ہی بہت ہے

    نیند آئے تو اس حال میں سونا ہی بہت ہے

    اتنی بھی فراغت ہے یہاں کس کو میسر

    یہ ایک طرف بیٹھ کے رونا ہی بہت ہے

    تجھ سے کوئی فی الحال طلب ہے نہ تمنا

    اس شہر میں جیسے ترا ہونا ہی بہت ہے

    ہم اوڑھ بھی لیتے ہیں اسے وقت ضرورت

    ہم کو یہ محبت کا بچھونا ہی بہت ہے

    اگتا ہے کہ مٹی ہی میں ہو جاتا ہے مٹی

    اس بیج کا اس خاک میں بونا ہی بہت ہے

    خوش حال بھی ہو سکتا ہوں میں چشم زدن میں

    میرے لیے اس جسم کا سونا ہی بہت ہے

    اپنے لیے ان چاند ستاروں کو سر شام

    اس شاخ تماشا میں پرونا ہی بہت ہے

    پہلے ہی بہت خاک اڑائی ہے یہاں پر

    میرے لیے اس دشت کا کونا ہی بہت ہے

    دریا کی روانی کو ظفرؔ چھوڑیئے فی الحال

    تھوڑا سا یہ ہونٹوں کو بھگونا ہی بہت ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY