پانی میں بھی پیاس کا اتنا زہر ملا ہے

علی اکبر عباس

پانی میں بھی پیاس کا اتنا زہر ملا ہے

علی اکبر عباس

MORE BYعلی اکبر عباس

    پانی میں بھی پیاس کا اتنا زہر ملا ہے

    ہونٹوں پر آتے ہر قطرہ سوکھ رہا ہے

    اندھے ہو کر بادل بھاگے پھرتے ہیں

    گاتے گاتے ایک پرندہ آگ ہوا ہے

    پھول اور پھل تو تازہ کونپل پر آتے ہیں

    پیلا پتہ اس وحشت میں ٹوٹ رہا ہے

    گردش گردش چلنے سے ہی کٹ پائے گا

    چاروں جانب ایک سفر کا جال بچھا ہے

    اسی پیڑ کے نیچے دفن بھی ہونا ہوگا

    جس کی جڑ پر میں نے اپنا نام لکھا ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Ber Aab e Neel (Pg. 93)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY