پاس رہ کر بھی بہت دور ہیں ہم بھی تم بھی

ظفر محمود ظفر

پاس رہ کر بھی بہت دور ہیں ہم بھی تم بھی

ظفر محمود ظفر

MORE BYظفر محمود ظفر

    پاس رہ کر بھی بہت دور ہیں ہم بھی تم بھی

    کس قدر بے بس و مجبور ہیں ہم بھی تم بھی

    آج بھی اندھی سرنگوں میں بسر کرتے ہیں

    اور اجالوں سے بہت دور ہیں ہم بھی تم بھی

    کون قاتل ہے یہاں سب کو خبر ہے لیکن

    گونگے بہرے بڑے مجبور ہیں ہم بھی تم بھی

    جھک کے ملنا ہمیں عزت میں کمی لگتی ہے

    کتنے کم ظرف ہیں مغرور ہیں ہم بھی تم بھی

    سانس بھی اس کی ہے یہ جسم اسی کا تابع

    اے ظفرؔ لاغر و معذور ہیں ہم بھی تم بھی

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے