پایا ترے کشتوں نے جو میدان بیاباں

آغا حجو شرف

پایا ترے کشتوں نے جو میدان بیاباں

آغا حجو شرف

MORE BY آغا حجو شرف

    پایا ترے کشتوں نے جو میدان بیاباں

    شان چمن خلد ہوئی شان بیاباں

    دیوانہ ترا مر کے ہوا زندۂ جاوید

    روح اس کی جو نکلی تو ہوئی جان بیاباں

    مجھ سا بھی جہاں میں کوئی سودائی نہ ہوگا

    سمجھا لحد قیس کو ایوان بیاباں

    ویرانہ نشینی ہے ازل سے مری جاگیر

    قسمت نے دیا ہے مجھے فرمان بیاباں

    وحشت پہ مری آہوؤں کے بہتے ہیں آنسو

    حیرت پہ مری روتے ہیں حیوان بیاباں

    ہے عالم ہو تربت مجنوں کا مجاور

    سناٹے کا عالم ہے نگہبان بیاباں

    جس روز مرے ہوش کے ہمراہ اڑیں گے

    دم توڑ کے مر جائیں گے مرغان بیاباں

    اک دن ہی یہ موقوف ہوا خاک کا اڑنا

    کیا کیا نہ کیا قیس نے سامان بیاباں

    پروا نہ تھی بستی کی نہ تھی یاد وطن کی

    اللہ رے مدہوشی و نسیان بیاباں

    رہتے ہیں مرے گرد پری زاد ہزاروں

    ہوں عالم وحشت میں سلیمان بیاباں

    لیلیٰ پہ جو عالم ہے تو مجنوں بھی ہے خوش رو

    وہ حور بیاباں ہے وہ غلمان بیاباں

    اس طبقے کی منظور جو کی تم نے تباہی

    بربادی ہوئی دست و گریبان بیاباں

    افسوس ہے اس نجد کو مجنوں نے بسایا

    لیلیٰ جسے کہتی ہے بیابان بیاباں

    دل کھول کے جی چاہتا ہے خاک اڑاؤں

    پھرنے کو ملا ہے مجھے میدان بیاباں

    جس دن سے بنی ہے ترے دیوانے کی تربت

    ہوتے ہیں پری زاد بھی قربان بیاباں

    شیروں کے ہلا ڈالے ہیں دل اس کے جنوں نے

    مجنوں ہے کہ ہے رستم دستان بیاباں

    جس وقت شرفؔ لیلیٰ و مجنوں نے قضا کی

    اک غل ہوا رخصت ہوے مہمان بیاباں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY