پڑا تھا لکھنا مجھے خود ہی مرثیہ میرا

فریاد آزر

پڑا تھا لکھنا مجھے خود ہی مرثیہ میرا

فریاد آزر

MORE BY فریاد آزر

    پڑا تھا لکھنا مجھے خود ہی مرثیہ میرا

    کہ میرے بعد بھلا اور کون تھا میرا

    عجیب طور کی مجھ کو سزا سنائی گئی

    بدن کے نیزے پہ سر رکھ دیا گیا میرا

    یہی کہ سانس بھی لینے نہ دے گی اب مجھ کو

    زیادہ اور بگاڑے گی کیا ہوا میرا

    میں اپنی روح لیے در بہ در بھٹکتا رہا

    بدن سے دور مکمل وجود تھا میرا

    مرے سفر کو تو صدیاں گزر گئیں لیکن

    فلک پہ اب بھی ہے قائم نشان پا میرا

    بس ایک بار ملا تھا مجھے کہیں آزرؔ

    بنا گیا وہ مجھی کو مجسمہ میرا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY