پہاڑوں کی بلندی پر کھڑا ہوں

سلیمان خمار

پہاڑوں کی بلندی پر کھڑا ہوں

سلیمان خمار

MORE BYسلیمان خمار

    دلچسپ معلومات

    (کتاب،لکھنؤ)

    پہاڑوں کی بلندی پر کھڑا ہوں

    زمیں والوں کو چھوٹا لگ رہا ہوں

    ہر اک رستے پہ خود کو ڈھونڈھتا ہوں

    میں اپنے آپ سے بچھڑا ہوا ہوں

    بھرے شہروں میں دل ڈرنے لگا تھا

    اب آ کر جنگلوں میں بس گیا ہوں

    تو ہی مرکز ہے میری زندگی کا

    ترے اطراف مثل دائرہ ہوں

    اجالے جب سے کترانے لگے ہیں

    سیہ راتوں کا ساتھی بن گیا ہوں

    مراہم شکل کب کا مر چکا ہے

    مجھے مت چھیڑئیے میں دوسرا ہوں

    مأخذ :
    • کتاب : 1971 ki Muntakhab Shayri (Pg. 108)
    • Author : Kumar Pashi, Prem Gopal Mittal
    • مطبع : P.K. Publishers, New Delhi (1972)
    • اشاعت : 1972

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے